Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4222

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعِنْدَكِ شَيْءٌ» قُلْتُ: لَا إِلَّا خُبْزٌ يَابِسٌ وَخَلٌّ فَقَالَ: «هَاتِي مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدُمٍ فِيهِ خَلٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن أم هانئ قالت: دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أعندك شيء» قلت: لا إلا خبز يابس وخل فقال: «هاتي ما أقفر بيت من أدم فيه خل» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام ہانی سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے میں نے کہا نہیں سوا خشک روٹی اور سرکہ کے ۲؎تو فرمایا لاؤ ۳؎وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ ہو ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام فاختہ یا ہند ہے،ابو طالب کی بیٹی حضرت علی رضی الله عنہ کی بہن ہیں،زمانہ جاہلیت میں آپ کا نکاح ہبیرہ ابن وہب سے ہوا،آپ مسلمان ہوگئیں، ہبیرہ نے اسلام قبول نہ کیا اس لیے علیحدگی کردی گئی۔حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا مگر آپ نے یہ معذرت کی کہ میں بہت بچوں والی بی بی ہوں حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت کما حقہ نہ کرسکوں گی حضور صلی الله علیہ وسلم کو مجھ سے بجائے آرام کے تکلیف ہوگی،آپ بہت احادیث کی راویہ ہیں۔
۲
؎یعنی یہ دو حقیر سی چیزیں میرے پاس ہیں جو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لائق نہیں۔یابسسے مراد ہے سوکھی ہوئی روٹی چند روز کی ہوجس کا چبانا مشکل ہو۔
۳
؎ہمراہ ہی کھائیں گے۔
بوریا ممنون خواب را حتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
۴
؎قفرکے معنی ہیں خالی ہونا اس لیے چٹیل میدان کاقفارکہتے ہیں جو سبزہ سے خالی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ آدمی اعلیٰ درجہ پر پہنچ کر بھی معمولی غذاؤں سے نفرت نہ کرے اپنی عادت سیدھی سادی رکھے سادہ زندگی گزارنے کا عادی رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4222