Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4205

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الطاعم الشاكر كالصائم الصابر » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ شکر گزار کھانے والا ۱؎صابر روزہ دار کی طرح ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شکر کا اقل درجہ یہ ہے کہ بسم الله سے شروع کرے الحمدﷲ سے ختم کرے،عملی شکر یہ ہے کہ کھا پی کر رب تعالیٰ کی اطاعت کرے،الله توفیق دے۔
۲
؎روزہ دار کا کم سے کم صبر یہ ہے کہ اپنے روزہ کو روزہ توڑنے والی چیزوں سے محفوظ رکھے اور درمیانی شکر یہ ہے کہ مکروہات سے بچائے،اعلیٰ شکریہ ہے کہ ان چیزوں سے روزہ کو محفوظ رکھےجن سے روزہ غیر مقبول ہوتا ہےیعنی سر سے پاؤں تک ہر عضو کا روزہ ہو۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے دو رکن ہیں: شکر اور صبر تو گویا نصف ایمان شکر ہے نصف ایمان صبر،نصف ہونے میں تشبیہ ہے ورنہ روزہ کا خصوصی درجہ وہ ہے جوکسی عبادت کو حاصل نہیں،فرماتا"الصوم لی وانا اجزی بہروزہ میرا ہے اور اس کا ثواب میں ہی دوں گا یا اس کا ثواب خود میں ہوں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ صابر روزہ دار تو کھانا پینا چھوڑ کر صبرکرتا ہے اور شاکر کھانے والا اس کھانے سے پیدا شدہ قوتوں کو ناجائز جگہ خرچ کرنے سے روک کر صبر کرتا ہے تو شاکر بھی بالواسطہ صابر ہی ہے۔بہرحال شکر کو صبر سے بہت مناسبت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4205