Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4183

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الأُدْمَ. فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهٖ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهٖ وَيَقُولُ:«نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم سأل أهله الأدم. فقالوا: ما عندنا إلا خل فدعا به فجعل يأكل به ويقول:«نعم الإدام الخل نعم الإدام الخل».رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس سرکہ کے سوا کچھ نہیں تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے وہ ہی منگایا اسے کھانے لگے اور فرماتے تھے سرکہ اچھا سالن ہے سرکہ اچھا سالن ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎سرکہ طبی رو سے بہت مفید ہے سادہ ارزاں غذا ہے،حضرات انبیاء کرام نے عمومًا سرکہ کھایا ہے۔اس کے بہت فضائل حدیث شریف میں آئے ہیں۔عرب میں عمومًا کھجور کا سرکہ ہوتا ہے،ہمارے ملک میں رس انگور کا سرکہ ہوتا ہے گنے کے رس کا سرکہ بہت مروج ہے۔اس حدیث کی بنا پر بعض فقہاء نے فرمایا کہ سرکہ بھی سالن ہے جو کوئی سالن نہ کھانے کی قسم کھا لے وہ سرکہ کھانے سے حانث ہوجائے گا اور اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا مگر خیال رہے کہ قسم کا مدار عرف پربھی ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4183