Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4188

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتّٰى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو چھوہارے ملا کر کھائے حتی کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم قحط سالی کے زمانہ میں ہے یا جب ہے جب کہ چھوہارے تھوڑے ہوں کھانے والے زیادہ ہوں،اگر یہ دو دو چھوہارے کھائے تو دوسرے ساتھی بھوکے رہ جائیں گے،اگر اکیلا کھارہا ہے یا کھانے میں وسعت ہے تو چاہے چار چار کھائے،یہ بھی خیال رہے کہ یہ ممانعت جب ہے جب کہ کھانا مشترکہ ہو یا کسی کے گھر سب کی دعوت ہو اوراگر کھانا اس کا اپنا ہے جیسے چاہے کھائے۔اس حدیث سے ساتھ کھانے سے بہت سے حکم نکل سکتے ہیں۔اگر چند شخصوں نے مل کر ہانڈی پکائی ہے اور ساتھ ہی کھارہے ہیں تو ہرشخص دوسروں کا خیال رکھ کر بوٹیاں کھائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4188