Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4181

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُميَّةَ أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهٖ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰى وَلَمْ يتَوَضَّأ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عمرو بن أمية أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة في يده فدعي إلى الصلاة فألقاها والسكين التي يحتز بها ثم قام فصلى ولم يتوضأ(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن امیہ سے ۱؎انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ بکری کی دستی سے کاٹ کر کھاتے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی۲؎پھر آپ کو نماز کی طرف بلایا گیا تو اسے اورچھری کو جس سے کاٹ رہے تھے ڈال دیا پھر کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بڑے بہادر پہلوان تھے،جنگ بدرواحد میں مشرکین کی طرف سے لڑنے آئے،جنگ احد سے واپسی کے موقعہ پر مسلمان ہوگئے پھر موتہ میں مجاہد ہو کر گئے ۶؁∞ ہجری میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے آپ کو حبشہ نجاشی کی طرف پیغام دے کر بھیجا۔ ۶۰؁∞ ساٹھ ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎اس طرح کہ پوری دستی بھنی ہوئی تھی،حضور انور چھری سے بوٹیاں کاٹتے اور کھاتے تھے یا دانت سے نوچ کر کھاتے تھے۔احتزازبنا ہےحزسے بمعنی قطع۔
۳
؎یعنی نہ تو شرعی وضو کیا نہ عرفی وضو کیا یعنی نہ ہاتھ دھوئے نہ کلی کی کیونکہ کھانا کھا کر ہاتھ دھونا کلی کرنا سنت ہے مگر واجب نہیں،یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے ہے۔خیال رہے کہ پختہ گوشت کے بڑے بڑے پارچے چھری سے کاٹ کر کھانا جائز ہے مگر ضرورت کی وجہ سے مگر بلاضرورت چھری کانٹے سے کھانا مکروہ و ممنوع ہے کہ کفار عجم کا طریقہ ہے،(اشعہ) ہاتھ سے کھانا نوچنا سنت ہے یہاں ضرورۃً یہ عمل کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4181