Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4195

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بَطْنَهٗ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

و عن النعمان بن بشير قال: ألستم في طعام وشراب ما شئتم؟ لقد رأيت نبيكم صلى الله عليه وسلم وما يجد من الدقل ما يملأ بطنه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرماتے ہیں کہ کیا تم جس قدر چاہو کھانے پینے میں مشغول نہیں ۱؎میں نے تمہارے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ردی خرمے بھی اس قدر نہ پاتے تھے کہ اپنا پیٹ بھرلیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطاب حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام و تابعین سے ہے جب کہ مسلمانوں کو الله تعالٰی نے بڑی فراخی عطا فرمادی تھی خصوصًا عہد فاروقی عثمانی میں۔مقصد یہ ہے کہ اس فراخی رزق پر الله تعالٰی کا شکر کرو یا اعتراضًا فرمایا کہ تم لوگوں نے دنیا کی فراوانی پاکر حضور صلی الله علیہ وسلم کا زہد تقویٰ اور ترک دنیا کا طریقہ چھوڑ دیا۔(مرقات)
۲
؎دفلکا لفظی ترجمہ گڈ ہے یعنی ایسے معمولی خرمے جس میں ہرقسم کے خرمے موجود ہیں انکا کوئی خاص نام نہ ہو بکھرے پھرتے ہوں یعنی اعلیٰ کھانوں اعلیٰ کھجوروں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ردی معمولی گڈ خرمے بھی افراط سے نہ پاتے تھے،غالبًا یہ ذکر ہے فتح خیبر سے پہلے کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4195