Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4212

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهٗ رَجُلَانِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو قال: ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط ولا يطأ عقبه رجلان. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکیہ لگاکر کھاتے کبھی نہ دیکھا گیا ۱؎اور نہ دو شخص آپ کی ایڑیوں کو روندتے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نہ تو کسی چیز کی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہ اپنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر کھاتے کہ یہ طریقہ متکبرین کا ہے، اکثر اوکڑوں بیٹھ کر کھاتے کہ یہ طریقہ متواضعین کا ہے۔
۲
؎یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم راہ میں دو آدمیوں سے بھی آگے نہ چلتے تھے تاکہ آپ اپنی بڑائی ظاہر کریں بلکہ آپ سب کے ہمراہ چلتے تھے،یہ تو تھی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی اپنی عادت کریمہ مگر قدرتی کرشمہ یہ تھا کہ حضور بہت آہستہ چلتے اور ساتھی تیز چلتے تب بھی آپ کے ہمراہ نہ چل سکتے تھے پیچھے ہی رہ جاتے تھے گویا زمین حضور کے لیے لپیٹی جاتی تھی جیساکہ ان شاءاللهباب المعجزاتمیں آوے گا۔اسی طرح بہت لمبے قد والے حضرات آپ کے ساتھ ہوتے مگر سب سے اونچے آپ ہی معلوم ہوتے تھے،یہ معجزہ اب بھی گنبد خضراء شریف سے ظاہر ہے۔خیال رہے کہ دنیا میں پیشوا بن کر رہنا بھی کبھی خدا کا عذاب ہوتا ہے۔مرقات میں ہے کہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک شخص کویہ دعا دی تو فرمایا کہ الٰہی اگر یہ جھوٹا ہے تو اسے لوگوں کا پیشوا بنادے کہ لوگ اس کے پیچھے چلا کریں جو سرداری کا اہل نہ ہو اور کوشش سے سرداری حاصل کرے اس کے لیے سرداری عذاب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4212