Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4218

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نُبَيْشَة عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ القَصْعَةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن نبيشة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من أكل في قصعة فلحسها استغفرت له القصعة . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نبیشہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے ۱؎تو اس کے لیے پیالہ دعاء مغفرت کرتا ہے ۲؎احمد،ترمذی، ابن ماجہ،دارمی اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎پیالہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اکیلا آدمی اکثر پیالے میں کھاتا ہے بڑے برتن بڑی تھالی میں جماعت کھاتی ہے۔اکیلا کھانے والا اگر چھوڑے تو اتنا چھوڑے کہ دوسرا کھاسکے ورنہ پیالہ خوب صاف کردے،یہ ہی حکم چاول وغیرہ کا ہے۔
۲
؎حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے تاویل ہیر پھیر کی کوئی ضرورت نہیں۔واقعی پیالہ ایسے کھانے والے کے لیے دعا کرتا ہےکیونکہ اس میں برتن کی صفائی ہے۔کھانے کا ادب ہےکھانے کو بربادی سے بچانا ہے۔برتن میں چھوڑنے سے اس پر مکھیاں بھنکتی ہیں،وہ کھانا نالیوں،گندگیوں میں دھو کر پھینک دیا جاتا ہے جس سے اس کی سخت بے ادبی ہوتی ہے،اگر دو تین اشرفی برتن کھانا برباد ہو تو ایک شہر میں کئی من کھانا برباد ہوگا غرضیکہ برتن چاٹنے میں بہت حکمتیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4218