Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4176

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَفِي أُخْرٰى لَهٗ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهٗ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرٰى فَشَرِبَهٗ ثُمَّ أُخْرٰى فَشَرِبَهٗ حَتّٰى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهٗ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرٰى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ »

وفي أخرى له عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضافه ضيف وهو كافر فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أخرى فشربه ثم أخرى فشربه حتى شرب حلاب سبع شياه ثم إنه أصبح فأسلم فأمر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أمر بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المؤمن يشرب في معى واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء »

حدیث ترجمہ

اور ان کی دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ہوا ۱؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا تو دوہی گئی اس نے اس کا دودھ پیا پھر دوسری اس نے وہ بھی پی لیا پھر اور،وہ اسے بھی پی گیا حتی کہ سات بکریوں کا ۲؎دودھ پی گیا صبح کے وقت مسلمان ہوگیا ۳؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا وہ دو ہی گئی اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر دوسری کا حکم دیا تو اسے نہ پی سکا ۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یا تو ایمان لانے کے لیے آیا یا صرف زیارت و ملاقات کے لیے دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ ماں باپ،پردیسی مہمان اگر کافر بھی ہوں تب بھی ان کا حق مسلمان پر ہے جو ضرور ادا کرے مہمان کی خاطر کرو اگرچہ کافر ہو۔
۲
؎یہ بکریاں یا تو حضور انور صلی الله علیہ وسلم ہی کی تھیں یا مختلف حضرات کی تھیں یا ان بکریوں کا دودھ خرید فرما کر اسے پلایا گیا تھا۔عرب کی بکری دودھ بہت دیتی ہے بعض بکریاں تین چار سیر تک دودھ دیتی ہیں یہ شخص بہت دودھ پی گیا۔
۳
؎حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ شان بندہ نوازی دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔شعر
نہ فرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است
۴
؎الله اکبر!پینے والا وہ ہی ہے دودھ وہی ہے مگر حالت وہ نہیں،ایمان کے ساتھ خوراک بھی قناعت والی ہوگئی۔پارس لوہے کو سونا کردیتا ہے،کلمہ حریص کو قانع،کافر کو مؤمن،فاجر کو متقی،خدا کے دشمن کو اس کا دوست بنادیتا ہے۔
۵
؎اس کی شرح ابھی کچھ پہلے گزرگئی وہاں کھانے کا ذکر تھا یہاں پینے کا ذکر ہے۔مطلب ایک ہی ہے۔پینے سے مراد دودھ وغیرہ کا پینا،جس مشروب میں غذائیت ہے صرف پانی مراد نہیں یعنی کافر ہوس میں ساتوں آنتیں غذا سے بھرلیتا ہے مؤمن ایک آنت بھرتا ہے باقی آنتیں خالی رکھتا ہے۔مؤمن قانع ہے طبعًا۔بعض شارحین نے فرمایا کہالمؤمنمیں الف لام عہدی ہے اور اس سے متقی زاہد قانع مؤمن ہے مگر صحیح یہ ہی ہے کہ لام جنسی ہے بمقابلہ کافر مطلق مؤمن قانع ہوتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4176