Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4180

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللهُ عَنْہُ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهٗ فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس رضی الله عنہ أن خياطا دعا النبي صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه فذهبت مع النبي صلى الله عليه وسلم فقرب خبز شعير ومرقا فيه دباء وقديد فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حوالي القصعة فلم أزل أحب الدباء بعد يومئذ. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ ایک درزی نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جسے اس نے تیار کیا تھا تو میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گیا ۱؎تو اس نے جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو اور خشک گوشت تھا ۲؎تو میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم پیالے کے آس پاس سے کدو تلاش کرتے تھے۳؎اس دن کے بعد سے میں کدو سے محبت کرتا رہا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو اس درزی نے حضرت انس کی بھی دعوت کی تھی یا آپ حضور صلی الله علیہ وسلم کے خادم خاص تھے اور مخدوم کے ساتھ عمومًا خاص خدام جایا ہی کرتے ہیں،گھر والے ان کی آمد سے راضی ہوتے ہیں عرفًا یہ بات مروج ہے اس لیے آپ بھی حضور انور کے ساتھ گئے۔جس حدیث میں آتا ہے کہ پانچ صاحبوں کی دعوت پر چھٹا آدمی ساتھ گیا تو حضور انور نے اس کے لیے علیٰحدہ اجازت مانگی،صاحبِ خانہ نے اجازت دے دی تب اسے کھانے میں شریک کیا وہ چھٹا آدمی خادم خاص نہ تھا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎قدیدبنا ہےقدسے بمعنی کاٹنا،عرب میں گوشت کے بڑے بڑے پارچے نمک لگا کر سکھالئے جاتے ہیں جو عرصہ تک کھائے جاتے ہیں انہیںقدیدکہتے ہیں۔ہم نے بھی منٰی شریف میں بدویوں کو قربانی کا گوشت سکھاتے دیکھاہے۔
۳
؎حوالجمع ہےحولکی بمعنی گھومنا،کناروں کو حوال کہا جاتا ہے کہ اس طرف گھومنا ہوتا ہے۔قصعہیاصحفہوہ بڑا پیالہ جس سے پانچ چھ آدمی کھاسکیں یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم پیالے کے ہر طرف سے کدو کے ٹکڑے اٹھاکر کھانے لگے۔ معلوم ہوا کہ کدو مرغوب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جب مخدوم و خادم ایک پیالے سے کھائیں تو مخدوم ہر طرف سے کھا سکتا ہے۔وہ جو ارشاد ہےکل مما یلیكاپنے سامنے سے کھاؤ، وہاں چھوٹوں یا برابر والوں سے خطاب ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔مرقات نے فرمایا کہ جب ایک ساتھی کے ہر طرف ہاتھ ڈالنے سے دوسرے ساتھی نفرت کریں تب یہ حکم ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ شریف سے چیز لگ کر تبرک بن جاتی ہے،حضرات صحابہ نے تو حضور کا پیشاب بلکہ خون بھی پیا ہے تبرکًا لہذا حضور کا حکم دوسراہے۔(مرقات)بہرحال یہ حدیث بہت واضح ہے۔بعض روایا ت میں ہے کہ حضرت انس بھی کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے حضور انور کے سامنے رکھنے لگے۔
۴
؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اپنے خدام وغلاموں کی دعوت قبول کرنا چاہیے اگرچہ وہ اپنے سے درجہ میں کم ہو۔دوسرے یہ کہ خادم کو اپنے ساتھ ایک پیالے میں کھلانا بہت اچھا ہے۔تیسرے یہ کہ کدو پسندکرنا سنت ہے۔ چوتھے یہ کہ ہر سنت سے محبت کرنا خواہ سنت زائد ہو یا سنت ابدی طریقہ صحابہ کرام ہے۔شعر
فقط اتنی حقیقت ہے ہمارے دین و ایمان کی کہ اس جان جہاں کے حسن پر دیوانہ ہوجانا
پانچویں یہ مخدوم اپنے خادم کے ساتھ کھائے تو پیالے میں سے ہرطرف سے کھاسکتا ہے خادم کو یہ حق نہیں۔چھٹے کہ خادم پیالہ سے بوٹیاں یا کدو وغیرہ چن کر مخدوم کے سامنے رکھ سکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4180