Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4190

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهٗ ذٰلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن سعد قال: سمعت رسول الله يقول: «من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ چھوہارے کھائے ۱؎تو اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہ دے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عجوہ مدینہ منورہ کے اعلیٰ قسم کے چھوہارے ہیں،ان کا رنگ سیاہ ہوتا ہے،ان پر کچھ دھاریاں قدرتی ہوتی ہیں۔عوالی مدینہ میں ایک باغ ہے جس میں عجوہ کے دو درخت ایسے ہیں جنہیں حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے لگایا اب کچھ کم پھل دیتے ہیں۔فقیر نے ان درختوں کو بوسہ دیا ہے اور ان کے پھل کے( ۱۱ )دانے اپنے ساتھ لایا تھا،اس کا ایک دانہ ایک ریال کا ملتا ہے۔
۲
؎حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے۔واقعی عجوہ کھجور میں یہ تاثیر ہے،کسی تاویل کی ضرورت نہیں مگر عجوہ مدینہ منورہ کا ہو۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4190