Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4215

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهٗ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهٗ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ».رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَ الْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”وَقَالَا: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تقطعوا اللحم بالسكين فإنه من صنع الأعاجم وانهسوه فإنه أهنأ وأمرأ».رواه أبوداود و البيهقي في “شعب الإيمان”وقالا: ليس هو بالقوي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گوشت چھری سے نہ کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کے معمولات سے ہے ۱؎اور اسے نوچ کر کھاؤ کہ مزیدار اور جلد اترنے والا ہے ۲؎ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان اور ان دونوں نے کہا یہ قوی نہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کھانے کو ہاتھ نہ لگانا چھری کانٹے سے کھانا،گوشت کی اگرچہ چھوٹی بوٹیاں ہوں خوب گلی ہوں پھر بھی چھری سے کھانا طریقہ یہودیوں عیسائیوں کا ہے۔اس سے بچو تم ہاتھ سے کھاؤ،ہاں اگر بڑے بڑے پارچے کھائے گئے ہوں تو کھاتے وقت چھری سے کاٹنے کا ذکر ہے کہ وہاں پٖارچے بڑے بڑے تھے۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے ناخن بڑے بڑے ہوتے ہیں جن میں میل بھرا رہتا ہے پھر وہ پانی سے استنجا کرتے نہیں ہاتھ کبھی دھوتے نہیں اس لیے وہ ہاتھ سے کھاتے نہیں،ہم مسلمان حضورصلی الله علیہ وسلم کے کرم سے سر سے پاؤں تک بالکل پاک و صاف رہتے ہیں ہم ہاتھ سے کیوں نہ کھائیں۔
۲
؎یعنی دانت سے نوچی ہوئی بوٹیاں مزیدار زود ہضم اور جلد کھائی جانے والی ہوتی ہیں اس لیے اسی طرح کھایا کرو۔
۳
؎اگر یہ حدیث قوی نہ ہو تو وہ حدیث تو قوی ہےمن تشبہ بقوم فھو منھمجو کسی قوم سے مشابہت ان کی نقالی کرے وہ اس قوم سے ہوتا ہے۔حدیث کی اسناد کیسی ہی ہوں حکم بالکل درست ہے،یہ حدیث اس صحیح حدیث سے قوت یافتہ ہے قرآن کریم کی آیت سے بھی قوت پاتی ہے"لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔ کفر سے دلی یا عملی محبت حرام ہے۔آپ نو مسلم عیسائیوں کی نقالی میں کھڑے کھڑے کھاتے ہیں ہاں ابھی ہاتھ سے کھاتے ہیں برتن میں منہ نہیں ڈال دیتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4215