Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4170

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتّٰى لَحِقَ بِاللّٰهِ وَلَا رَأٰى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهٖ قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أنس قال: ما أعلم النبي صلى الله عليه وسلم رأى رغيفا مرققا حتى لحق بالله ولا رأى شاة سميطا بعينه قط. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے روٹی چپاتی دیکھی حتی کہ الله سے مل گئے ۱؎اور نہ بھنی ہوئی بکری آنکھ سے کبھی دیکھی ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نہ تو اپنے گھر میں دیکھی نہ کسی دوسرے کے گھر میں،حضرت انس اپنے علم کی نفی فرمارہے ہیں ممکن ہے کہ کبھی ملاحظہ فرمائی ہو حضرت انس کو خبر نہ ہوئی ہو۔
۲
؎سمیطوہ بکری کہلاتی ہے جو کھال میں بُھونی جائے کہ اولًا کھال کے بال اتارے جاویں پھر اسے گرم پانی سے دھوکر اس کے اندر گوشت بھردیا جائے اور اسی میں بھون لیا جائے۔امراء و سلاطین ایسا گوشت کھاتے ہیں۔سمیطکے یہ معنی خیال میں رہیں،شاۃ مشوی اور چیز ہےسمیطکچھ اور حضور انور نے ویسے بُھنا گوشت ملاحظہ فرمایا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4170