Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4173

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا فَذُكِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ».رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه أن رجلا كان يأكل أكلا كثيرا فأسلم فكان يأكل قليلا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال:«إن المؤمن يأكل في معى واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء ».رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک شخص بہت کھاتا تھا پھر وہ مسلمان ہوگیا تو کھانا کم کھانے لگا ۱؎یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بمقابل زمانہ کفر کےکہ اب اسلام کے بعد اس کی خوراک کم ہوگئی یہ کمی قدرتی طور پر ہوئی یا اس کے زہد و تقویٰ کی وجہ سے۔
۲
؎اس فرمان عالی کا یہ مطلب نہیں کہ کافر کے پیٹ میں سات آنتیں اور مؤمن کے پیٹ میں ایک آنت ہوتی ہے،ہر انسان کے پیٹ میں آنتیں سات ہی ہوتی ہیں مؤمن ہو یا کافر۔(اشعہ)یہ فرمان عالی بطور تمثیل ہے کہ کافر کھانے پینے کا حریص ہے مؤمن قانع ہوتا ہے،کافر کی نظر ہر وقت کھانے پینے میں رہتی ہیں جانوروں کی طرح،مؤمن کی نگاہ ذکر و فکر میں رہتی ہے یا کافر کے ساتھ شیطان بھی کھاتا ہے مؤمن چونکہبسم اللهسے کھانا شروع کرتا ہے،الحمد ﷲپر ختم اس لیے کافر کھانا زیادہ سمیٹتا ہے،یا مؤمن کے کھانے میں برکت ہوتی ہے کہ تھوڑا کھانا زیادہ قوت دیتا ہے کافر کے کھانے میں بے برکتی،یا یہ مطلب ہے کہ ایک کافر کو سات مؤمنوں کی سی بھوک اور کھانے کی رغبت ہوتی ہے مؤمن تہائی پیٹ کھانے سے پُرکرتا ہے، تہائی پانی سے اور تہائی سانس و ذکر کے لیے خالی رکھتا ہے۔خیال رہے کہ یہ قانون ایک شخص کے لحاظ سے ہوگا یعنی ایک کافر جب مسلمان ہو جائے توانشاءاللهاس کی خوراک کم ہوجائے گی ورنہ بعض مسلمان کافر سے زیادہ کھاتے ہیں،قوی جوان مؤمن کی خوراک ضعیف بڈھے کافر سے یقینًا زیادہ ہوگی لہذا حدیث بالکل واضح ہے جس کا تجربہ اب بھی ہوتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ زیادہ خوراک انسان کے لیے عیب ہے،بڑھ ٹپا آدمی نفرت سے دیکھا جاتا ہے اور زیادہ قوت مردمی انسان کا کمال ہے۔جنتی آدمیوں کی خوراک زیادہ نہ ہوگی البتہ قوت مردمی زیادہ ہوگی۔حضرات انبیاءکرام کو قوت مردمی بہت زیادہ دی جاتی ہے،سلیمان علیہ السلام کی ہزار بیویاں تھیں اور داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4173