Main Icon

باب:کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4184

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰی مُوسٰى عَلَيْهِ السَّلَام

وعن سعيد بن زيد قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين» . (متفق عليه). وفي رواية لمسلم: من المن الذي أنزل الله تعالى علی موسى عليه السلام

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کھمبی من سے ہے ۱؎اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے ۲؎(مسلم، بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کہ اس من سے ہے جو الله تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎برسات میں گلی لکڑی کے بھیگنے سے چھتری کی طرح ایک گھاس اگ جاتی ہے اسے عربی میںکماۃ شحم الارض،فارسی میں سماروق اور کلاہ دبو،اردو میں کھمبی اور چتر مار کہتے ہیں۔بعض لوگ اس کی جڑیں پکا کر کھاتے ہیں۔ برسات میں عمومًا مل جاتی ہیں۔منبمعنی منت اور نعمت ہے یا مطلب یہ ہے کہ من کی مثل بغیر قیمت مل جانے والی چیز ہے۔
۲
؎اس کی تحقیقان شاءالله کتاب الطب والرقیمیں ہوگی۔اس کے پانی کا آنکھ کے لیے شفا ہونا برحق ہے مگر کسی مرض میں کیسے استعمال کیا جائے اس کی تفصیلکتاب الطبمیں ہے۔
۳
؎یعنی یا تو بنی اسرائیل پر جو من اترتا تھا وہ ہی تھا جو کچھ فرق کے ساتھ اب اس شکل میں ہے یا جیسے بنی اسرائیل پر من اعلیٰ درجہ کی چیز اتری مگر بغیر محنت مشقت انہیں دی گئی ایسے ہی یہ بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4184