Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1595

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهٖ مِنَ الْجَنَّةِ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من مات مريضا مات شهيدا أو وقي فتنة القبر وغدي وريح عليه برزقه من الجنة” . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو بیمار ہوکر مرا وہ شہید ہوکر مرا اور عذاب قبر سے بچایا گیا اورصبح و شام اس پر جنت کا رز ق پیش ہوتا رہے گا ۱∞؎(ابن ماجہ،بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں مریض سے پیٹ کا بیمارمراد ہے جیساکہ دوسری روایتوں میں گزرچکا،بعض نے فرمایاکہ اصل میں یہاںمرابطًاتھا راوی نے غلطی سےمریضًاکہہ دیا یعنی جوتیاریٔ جہادکرتا فوت ہو وہ شہید ہے،بعض نے فرمایا یہاںغریبًاتھا۔مگر حق یہ ہے کہ یہاںمریضًاہی ہے اورحدیث اپنےعموم پر ہے،رب دے تو ہم کیوں قید لگائیں۔جومسلمان کسی بیماری میں مرےاِنْ شَاءَاللّٰهُوہ ان رحمتوں کا مستحق ہوگا،صبح شام کے رزق سے مراد دائمی رزق یعنی اسے ہمیشہ جنت سے روزی ملے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1595