Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1552

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَعَادَ أَخَاهُ الِمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيْرَةَ سِتِّينَ خَرِيفًا” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أنس: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من توضأ فأحسن الوضوء وعاد أخاه المسلم محتسبا بوعد من جهنم مسيرة ستين خريفا” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو اچھی طرح وضوکرے اورطلب ثواب کے لیئے اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی کرے ۱∞؎تو ستر سال کے فاصلہ پر دوزخ سے دور رکھا جائے گا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی باوضو بیمار پرسی کی جائے کیونکہ عیادت لفظًا ومعنیً عبادت ہے اورعبادت باوضو بہترہے،نیز عیادت میں دعا اور مریض پر کچھ پڑھ کر دم کرنا ہوتا ہے اورباوضو دعا و دم بہتر ہے،بعض لوگ باوضو قربانی فاتحہ و ایصال ثواب کراتے ہیں بلکہ گیارھویں شریف کا کھاناباوضو پکاتے اورکھاتےہیں،یہ حدیث ان کی اصل ہے۔۲؎یعنی عیادت کی برکت سے وہ دوزخ سے اتنا دور رہے گا کہ اگر وہاں سے چلے تو ستر سال میں دوزخ کے کنارے پہنچے۔خیال رہے کہ خریف موسم خزاں کو کہتے ہیں جیسے ربیع موسم بہار کو کہا جاتاہے مگر یہاں اس سے سال مراد ہے،جزء بول کر کل مراد لیا،سنہ ہجری خلافت فاروقی سے شروع ہوا،پہلےکسی واقعہ سے سالوں کاحساب لگاتے تھے جیسے فیل کا سال،فتح کا سال وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1552