Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1553

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا شُفِيَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَضَرَ أَجَلُهٗ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما من مسلم يعود مسلما فيقول سبع مرات: أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك إلا شفي إلا أن يكون قد حضر أجله ". رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کرے تو سات بار کہہ دے ۱∞؎کہ میں عظمت والے اورعرش عظیم کے رب یعنی الله سے دعاکرتا ہوں کہ تجھے شفا دے مگر اسے شفا ہوگی لیکن یہ کہ اس کی موت ہی آگئی ہو۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اکثر دعاؤں میں آخری تعداد تین بار ہوتی ہے،یہاں سات بار ہے تاکہ بیمار کے ساتویں اعضاء سے بیماری دور ہو،نیز بیماری کا دفیعہ اہم ہے اس لیے تعداد بجائے تین کے سات کردی گئی۔(لمعات)۲؎یہ حکم تغلیبی ہے یعنی اکثر شفا ہوگی یامطلب یہ ہے کہ اگر اس عمل کے تمام شرائط جمع ہوں توبفضلہٖ تعالٰیضرور شفا ہوگی۔اگرکبھی شفاء نہ ہوتوسمجھو کہ ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہے، الله رسول سچے ہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ موت کا علاج نہیں۔مرقاۃ میں ہے کہ اگر قریب المرگ پر یہ دعا پڑھی جائے تواِنْ شَاءَاللّٰهُاس کی جان کنی آسان ہوگی اورایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔غرضکہ دعارائیگاں نہ جائے گی،شفائے ظاہر نہ ہو تو شفائےباطن ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1553