Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1559

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِن الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلیٰ طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهٖ : اكْتُبْ لَهٗ مِثْلَ عَمَلِهٖ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتّٰى أَطْلِقُهٗ أَوْ أَكْفِتَهُ اليّ "

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إن العبد إذا كان علی طريقة حسنة من العبادة ثم مرض قيل للملك الموكل به : اكتب له مثل عمله إذا كان طليقا حتى أطلقه أو أكفته الي "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب بندہ عبادت کے اچھے رستہ پر ہوتا ہے ۱∞؎پھر بیمار ہوجاتا ہے تو اس پرمقرر شدہ فرشتہ سے کہاجاتاہے تو اس کے تندرستی کے زمانہ کے برابر اعمال لکھ یہاں تک کہ میں اسے شفادے دوں یا اپنے پاس بلالوں۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تندرستی میں عبادت کرتا ہے رب سے غافل نہیں ہوتا پھر بیمار پڑ جاتا ہے۔۲؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ اس عبادت سے مرادنفلی عبادت،مسجد میں حاضری وغیرہ ہے کہ اگر بندہ بیماری میں یہ نہ کرسکے تو اسے برابر ان کا ثواب پہنچتا رہتا ہے۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر بندہ سخت بیماری یا غشی کی وجہ سے فرض نماز نہ پڑھ سکا پھر بغیرصحت ہوئے اسی حالت میں اسے موت آگئی تواِنْ شَاءَاللّٰهُپکڑ نہ ہوگی۔اس کی تحقیق کتب فقہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1559