Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1585

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّبَّ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰى يَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أُخْرِجُ أَحَدًا مِنَ الدُّنْيَا أُرِيد أَغْفِرَ لَهٗ حَتّٰى أَسْتَوْفِيَ كُلَّ خَطِيئَةٍ فِي عُنُقِهٖ بِسَقَمٍ فِي بَدَنِهٖ وَإِقْتَارٍ فِي رِزْقِهٖ ". رَوَاهُ رَزِيْنٌ

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الرب سبحانه وتعالى يقول: وعزتي وجلالي لا أخرج أحدا من الدنيا أريد أغفر له حتى أستوفي كل خطيئة في عنقه بسقم في بدنه وإقتار في رزقه ". رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم جسے بخشنا چاہوں گا تو اسے دنیا سے نہ نکالوں گا حتی کہ اس کی گردن سے سارے گناہ جسمانی بیماری اور رزق میں تنگی کے ذریعہ نکال دوں گا ۱∞؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کے جو گناہ ذمہ میں باقی رہ گئے ہیں جن سے اس نے توبہ نہیں کی نہ کوئی اورکفارہ ادا کیا وہ اس ذریعہ معاف کروں گا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی فقیری امیری سے بہتر ہوتی ہے،حدیث پاک میں ہے کہ فقیر امیروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے مگر یہ جب ہے کہ مؤمن بیماری اورفقر پر صبرکرے اور اپنے کو گناہوں سے بچائے رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1585