Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1571

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَامِرِ الرَّامِ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ فَقَالَ: “إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَقْمُ ثُمَّ أَعْفَاهُ الله مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضٰى مِنْ ذُنُوبِهٖ وَمَوْعِظَةً لَهٗ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ. وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيْ كَانَ كَالْبَعِيْرِ عَقَلَهٗ أَهْلُهٗ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوْهُ وَلِمَ أَرْسَلُوهُ”.فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: “قُمْ عَنَّا فَلَسْتَ مِنَّا” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عامر الرام قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الأسقام فقال: “إن المؤمن إذا أصابه السقم ثم أعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه وموعظة له فيما يستقبل. وإن المنافق إذا مرض ثم أعفي كان كالبعير عقله أهله ثم أرسلوه فلم يدر لم عقلوه ولم أرسلوه”.فقال رجل يا رسول الله وما الأسقام؟ والله ما مرضت قط فقال: “قم عنا فلست منا” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عامر رام ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ مؤمن کو جب بیماری پہنچتی ہے پھر الله اسے آرام دے دیتا ہے تو یہ گزشتہ گناہوں کاکفارہ بن جاتی ہے اور آیندہ کے لیئے نصیحت ۲؎اورمنافق جب بیمار ہوتا ہے پھر آرام دیا جاتا ہے تو اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھ دیا پھرکھول دیا وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا ۳؎تو ایک شخص بولا یارسول الله بیماریاں کیا ہیں قسم رب کی میں تو کبھی بیمارا ہوا ہی نہیں تو فرمایا ہمارے پاس سے ہٹ جاؤ تم ہم میں سے نہیں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،نام عامر ہے،تیراندازی کرتے تھے اس لیے رام لقب ہوا،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے بسند مجہول۔۲؎کیونکہ مؤمن بیماری میں اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیماری میرےکسی گناہ کی وجہ سے آئی اور شاید یہ آخری بیماری ہوجس کے بعدموت ہی آئے اس لیے اسے شفاء کے ساتھ مغفرت بھی نصیب ہوتی ہے۔۳؎بلکہ منافق غافل یہی سمجھتا ہے کہ فلاں وجہ سے میں بیمار ہوا تھا اور فلاں دوا سے مجھے آرام ملا،اسباب میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ مسبب الاسباب پرنظر ہی نہیں جاتی،نہ توبہ کرتا ہے،نہ اپنے گناہوں میں غور۔۴؎یہ شخص منافق تھا جس کا کفر پرمرناحضورصلی الله علیہ وسلم کے علم میں تھا اس لیئے اس سختی سے اسے یہ جواب دیا۔بعض روایات میں ہے کہ اس موقعہ پر یہ بھی فرمایا کہ جو دوزخی کو دیکھنا چاہے وہ ا سے دیکھ لے۔(مرقاۃ)ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم سراپا اخلاق ہیں محض بیمار نہ ہونے پر ایسی سختی نہ فرماتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کو رب نے لوگوں کے اچھے برے انجام کی خبردی ہے،حالانکہ یہ علوم خمسہ سے ہیں۔دوسرے یہ کہ کفار پرسختی کرنا ہی اخلاق ہے رب فرماتا ہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْسانپ کا سر کچلنا ہی اخلاق حسنہ ہے،حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے ان کفار پر نرمی برتی ہے جن کے ایمان کی امیدتھی،آج کل لوگوں نے اخلاق کے معنی غلط سمجھے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1571