Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1563

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا أَغْبِطُ أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

وعن عائشة قالت: ما أغبط أحدا بهون موت بعد الذي رأيت من شدة موت رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شدت موت دیکھنے کے بعد کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی ۱∞؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎دوسرے کی بھلائی اپنے لیے بھی چاہنا غبطہ یا رشک کہلاتا ہے اورکسی کی نعمت پرجلنا اور اس کا زوال چاہنا حسد یا جلن کہا جاتا ہے،رشک کبھی اچھا ہوتا ہے کبھی برا مگر حسد ہمیشہ بری ہی ہوتی ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے میں کسی کی جانکنی آسان دیکھتی تو رشک کرتی اور چاہتی تھی کہ میری موت بھی ایسی ہی آسان ہو۔سمجھتی تھی کہ آسان نزع مرنے والے کی نیکی ومقبولیت کی علامت ہے مگر جب حضور انورصلی الله علیہ وسلم کی شدت نزع دیکھی تو یہ خیال و رشک دونوں جاتے رہے، سمجھ گئی کہ سختی جانکنی اچھی چیز ہے بری نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1563