Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1567

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوِ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهٖ وَمَالِهٖ وَوَلَدِهٖ حَتّٰى يَلْقٰى اللهَ تَعَالٰى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوٰى مَالِكٌ نَحْوَهٗ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا يزال البلاء بالمؤمن أو المؤمنة في نفسه وماله وولده حتى يلقى الله تعالى وما عليه من خطيئة” . رواه الترمذي وروى مالك نحوه وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن اور مؤمنہ کو اس کی جان و مال واولاد کی مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں حتی کہ وہ رب سے اس طرح ملتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۱∞؎(ترمذی)مالک نے اس کی مثل،ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے نمازی پاک و صاف ہوکر مسجد میں جاتا ہے ایسے ہی مؤمن بلاؤں کے پانی کے ذریعہ گناہوں کی نجاستوں سے صاف ہوکر مسجدقدس میں حاضری دے کر نمازِ قرب اداکرتا ہے۔اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ یہ قانون ہم جیسے گنہگاروں کے لیے ہے انبیاء،اولیاء،چھوٹے بچے اس سے علیحدہ ہیں ان کی مصیبتوں کی اور وجہ ہے،نیز قانون اور ہے قدرت کچھ اور،بہرحال یہ حدیث قابل اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1567