Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1562

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: “الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلیٰ حَسَبِ دِينِهٖ فَإِنْ كَانَ فِي دِيْنِهٖ صُلْباً اِشْتَدَّ بَلَاؤُهٗ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهٖ رِقَّةٌ وَ هُوِّنَ عَلَيْهِ فَمَا زَالَ كَذٰلِكَ حَتّٰى يَمْشِيَ عَلَی الأَرْضِ مَالہ ذَنْبٌ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

وعن سعد قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم : أي الناس أشد بلاء؟ قال: “الأنبياء ثم الامثل فالأمثل يبتلى الرجل علی حسب دينه فإن كان في دينه صلبا اشتد بلاؤه وإن كان في دينه رقة و هون عليه فما زال كذلك حتى يمشي علی الأرض مالہ ذنب” . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سخت مصیبت والے کون ہیں فرمایا انبیاء پھر ترتیب وار افضل لوگ ۱∞؎انسان اپنی دینداری کے مطابق مبتلا ہوتا ہے اگر اس کے دین میں سختی ہے تو اس کی بلائیں بھی سخت ہوں گی ۲؎اور اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو اس پر آسانی کی جائے گئی ایسا ہی ہوتا رہے گا حتی کہ وہ زمین پر بے گناہ ہوکر چلے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎بزرگوں کی سخت آزمائش کی چند وجوہ ہیں:ایک یہ کہ انہیں آزمائشوں میں ایسی لذت آتی ہےجیسی دوسروں کو نعمتوں میں۔دوسرے یہ کہ ان کی یہ تکالیف ان کی بندگی کی دلیل ہیں اگر وہ بیمار نہ ہوں تو معتقدین انہیں خدا سمجھ لیں۔قبطیوں نے فرعون کو خدا سمجھاکیونکہ وہ کبھی بیمار نہ پڑا۔تیسرے یہ کہ ان کی مصیبتوں کی وجہ سے دوسرے پر مصیبت آسان ہوجاتی ہے،کربلا کے واقعہ سے لوگوں کو بہت صبروسکون نصیب ہوتاہے۔۲؎کیونکہ بڑے طالب علموں کا امتحان بھی بڑا ہوتا ہے اور بعد امتحان انہیں عہدہ بھی بڑا ملتا ہے اور چھوٹے طالب علموں کا امتحان چھوٹا۔شعر
بڑوں کو دکھ بہت ہے اور چھوٹوں سے دکھ دور
تارے سب نیارے رہیں گہن چاند اور سور

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1562