Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1593

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ ك تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلّٰى عَلَيْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “يَا لَيْتَهٗ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهٖ” . قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ:”إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهٖ قِيسَ لَهٗ مِنْ مَوْلِدِهِ الٰى مُنْقَطَعِ أَثَرِهٖ فِي الْجَنَّةِ”.رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه

وعن عبد الله بن عمرو قال ك توفي رجل بالمدينة ممن ولد بها فصلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: “يا ليته مات بغير مولده” . قالوا ولم ذاك يا رسول الله ؟ قال:”إن الرجل إذا مات بغير مولده قيس له من مولده الى منقطع أثره في الجنة”.رواه النسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک وہ شخص فوت ہوگیا جو وہاں ہی پیدا ہوا تھا ۱∞؎اس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور فرمایا کاش یہ پیدائش کی زمین کے سوا کہیں اور فوت ہوتا لوگوں نے کہا یارسول الله یہ کیوں فرمایا کہ بندہ جب غیر ولادت گاہ میں مرتا ہے تو اس کی ولادت گاہ سے آخری نقش قدم تک ناپ کر جنت سے دیا جاتاہے ۲؎(نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎پیدائش کی قید مدنی اور غیر مدنی میں فرق کرنے کے لیے ہے یعنی مسافرت کی موت وطن کی موت سے افضل ہے،ورنہ تمام علماء اس پرمتفق ہیں کہ مدینہ منورہ کی موت مکہ معظمہ میں موت سے بھی افضل ہے۔۲؎یعنی اس کی قبر اتنی کشادہ کی جاتی ہے جیسے ولادت گاہ سے موت کی جگہ تک کا فاصلہ اور اس سارے میدان میں جنت کا باغ ہوتاہے یعنی یہاں قبر کا ذکرہے ورنہ جنت میں معمولی جنتی کی ملکیت ساری روئے زمین سے زیادہ ہوگی۔(مرقاۃ ولمعات)یا مطلب یہ ہے کہ اسے جنت میں اس عمل کے عوض ایک مکان اتنا وسیع دیاجائے گا اگرچہ اوربھی زمین اس کی ملک ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1593