Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1574

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن أنس قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهٖ فَقَالَ لَهٗ : “أَسْلِمْ” . فَنَظَرَ إِلٰى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهٗ فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ. فَأَسْلَمَ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: “الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَنْقَذَهٗ مِنَ النَّارِ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عن أنس قال: كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه وسلم فمرض فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقعد عند رأسه فقال له : “أسلم” . فنظر إلى أبيه وهو عنده فقال: أطع أبا القاسم. فأسلم. فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول: “الحمد لله الذي أنقذه من النار” . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا ۱∞؎وہ بیمار ہوگیا تو اس کی بیمار پرسی کے لیئے نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اسلام لے آ۲؎اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس تھا۳؎باپ بولا بیٹا حضور ابوالقاسم کی بات مان لو بچہ اسلام لے آیا نبی صلی الله علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے واپس ہوئے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اسے آگ سے بچالیا۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس یہودی بچہ کا نام عبدالمقدوس تھا جو اپنی خوشی سےحضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ کفار کے بچے اگر بخوشی ہماری صحبت یا خدمت اختیارکریں تو انہیں روکنا نہ چاہیئے،بسا اوقات اس سے انہیں ایمان نصیب ہوجاتا ہے۔۲؎اس سے معلوم ہوا کہ کافر و فاسق کی بیمار پرسی جائز ہے اوربیمار پرسی کے وقت بیمار کے سرہانے بیٹھنا سنت ہے اور کافر بچے کوبھی ایمان کی تلقین کرنا درست ہے اور کافر بچے کا ایمان قبول ہے جب کہ وہ سمجھ دار ہو اور یہ کہ حضورصلی الله علیہ وسلم اپنے خدام کو بھولتے نہیں،مرتے وقت بھی ان کی امدادکرتے ہیں۔اس حدیث سےہم گنہگاروں کو امید بندھتی ہے کہاِنْ شَاءَاللّٰهُحضورصلی الله علیہ وسلم ہم کو مرتے وقت نہ بھولیں گے،اس وقت ہماری دستگیری فرمائیں گے۔علماء فرماتے ہیں کہ اب بھی حضورصلی الله علیہ وسلم اپنے خاص خدام کو ان کے مرتے وقت کلمہ پڑھانے تشریف لاتے ہیں،ایسے لوگ دیکھے گئے جنہوں نے مرتے وقت حضورصلی الله علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبرحاضرین کو دی خود بستر مرگ پر اٹھ کھڑے ہوئے حاضرین سے کہاتعظیم کرو حضور صلی الله علیہ وسلم آگئے۔۳؎یعنی بچہ نے باپ کے خوف سے خود کلمہ نہ پڑھ لیا بلکہ اجازت چاہنے کے لئے اس کی طرف دیکھا،رب کی شان اس نے اجازت دے دی۔۴؎معلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت رائیگاں نہیں جاتی۔دیکھو اس بچہ نے اس خدمت پاک کی برکت سے مرتے وقت ایمان پالیا۔رب تعالٰی فقیر کی یہ دینی خدمات قبول فرمائے اور اس بچہ کے طفیل سے مجھے بھی مرتے وقت کلمہ نصیب کرے۔آمین!مرتے وقت کا ایمان بھی قبول ہے غرغرہ سے پہلے اور بچے کا ایمان بھی معتبر۔خیال رہے کہ مشرکین وکفار کے وہ ناسمجھ بچے جنہیں بُرے بھلے کی تمیز نہ ہو اگر اسی حال میں مرجائیں توجہنمی نہیں کہ رب بغیر قصورکسی کو عذاب نہیں دیتا لیکن باشعور بچےجہنمی ہیں،چونکہ یہ بچہ سمجھدار تھا اگربغیر ایمان مرجاتا تو دوزخ میں جاتا،لہذا حضورصلی الله علیہ وسلم کا فرمان بالکل درست ہے کہ ایمان کی وجہ سے الله نے اسے بالکل دوزخ سے بچالیا۔کفار کے بچوں کی پوری بحث ہماری تفسیر "نور العرفان"میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1574