Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1582

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمّٰى فَإِنَّ الْحُمّٰى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطِفْئُهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ فِي نَهْرٍ جَارٍ وَلْيَسْتَقْبِلْ جِرْيَتَهٗ فَيَقُولُ: بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولك بعد صَلَاة الصُّبْح وَقبل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلْيَنْغَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمْسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٌ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهَا لَا تَكَادَ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ثوبان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إذا أصاب أحدكم الحمى فإن الحمى قطعة من النار فليطفئها عنه بالماء فليستنقع في نهر جار وليستقبل جريته فيقول: بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك بعد صلاة الصبح وقبل طلوع الشمس ولينغمس فيه ثلاث غمسات ثلاثة أيام فإن لم يبرأ في ثلاث فخمس فإن لم يبرأ في خمس فسبع فإن لم يبرأ في سبع فتسع فإنها لا تكاد تجاوز تسعا بإذن الله عز وجل ". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سےکسی کو بخار آئے ۱∞؎تو بخار آگ کا ٹکڑا ہے اسے پانی سے بجھائے کہ جاری نہر میں غوطہ لگائے اس کے بہاؤ کی طرف منہ کرے پھر کہےبسم اللهالٰہی اپنے بندےکو شفا دے اور اپنے رسول کو سچا کردے یہ فجرکی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کرے تین دن تک تین غوطے لگایاکرے اگر اس میں تندرست نہ ہو تو پانچ دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو سات دن اگر اس میں بھی اچھا نہ ہو تو نو دن بحکم الٰہی یہ بخار نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطاب اہلِ عرب کو ہے جنہیں اکثر صفراوی بخار آتے تھے جس میں غسل مفید ہوتا ہے۔ہم لوگ اس پر بغیر حاذق حکیم کے مشورے کے عمل نہ کریں کیونکہ ہمیں اکثر وہ بخار ہوتے ہیں جن میں غسل نقصان دہ ہے اس سے نمونیہ کا خطرہ ہوتا ہے،ہاں کبھی ہم کوبھی بخار میں غسل مفید ہوتا ہےحتی کہ ڈاکٹر مریض کے سر پر برف بندھواتے ہیں۔۲؎صفراوی بخار کے لیے یہ عمل اکسیر ہے جس پرکبھی حکیم عمل کرتے ہیں مگر یہ عمل تیزگرمی میں صفراوی بخار میں طبیب کی رائے سے کیا جائے۔مرقات نے فرمایا کہ ایک شخص نے ترجمہ حدیث دیکھ کر اپنے پر اسے آزمایا نمونیہ ہوگیا بمشکل بچا تو وہ حدیث کا ہی منکر ہوگیا حالانکہ اس کی اپنی جہالت تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1582