Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1560

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ابْتُلِيَ الِمُسْلِم بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهٖ قِيلَ لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهٗ صَالِحَ عَمَلِهِ الذِي كَانَ يَعْمَلُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَّلَهٗ وَطَهَّرَهٗ وَإِنْ قَبَضَهٗ غَفَرَ لَهٗ وَرَحِمَهُ".رَوَاهُمَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إذا ابتلي المسلم ببلاء في جسده قيل للملك: اكتب له صالح عمله الذي كان يعمل فإن شفاه غسله وطهره وإن قبضه غفر له ورحمه".رواهما في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو فرشتہ سے کہاجاتا ہے کہ تو اس کی وہی نیکیاں لکھ جو یہ پہلے کرتا تھا ۱∞؎پھر اگر رب اسے شفا دیتا ہے تو اسے دھو دیتا ہے اورپاک کردیتا ہے اور اگر اسے وفات دیتا ہے تو اسے بخش دیتا ہے اور رحم کرتا ہے۲؎یہ دونوں حدیثیں شرح سنہ میں ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیسا مبارک فرمان ہے کہ بیمارکو تندرستی کی نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے مگرتندرستی کے گناہوں کا عذاب نہیں ہوتا،یعنی اگر چور بدمعاش بیماری کی وجہ سے چوری،بدمعاشی نہ کرسکے تو اس کے نامۂ اعمال میں چوری وغیرہ لکھی نہ جائے گی،بلکہ ممکن ہے کہ توبہ کی توفیق مل جائے جس سے ان گناہوں کی معافی ہوجائے اس لیے یہاں صالح عمل ارشاد ہوا یہ سب اس لیے ہے کہ ہم اس کے حبیب کی امت ہیں۔۲؎یہ جملہ فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید کررہا ہے کہ مؤمن کی بیماری میں گناہوں کی تو بخشش ہوجاتی ہے مگر بدستور نیکیاں لکھی جاتی رہتی ہیں،گویا بیماری روحانی غسل ہے یا میلے دل کا صابن۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1560