Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1568

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهٗ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهٖ اِبْتِلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهٖ أَفِي مَالِهٖ أَوْ فِي وَلَدِهٖ ثُمَّ صَبَّرَهٗ عَلیٰ ذٰلِكَ يُبَلِّغُهُ المَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهٗ مِنَ الله”. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن محمد بن خالد السلمي عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إن العبد إذا سبقت له من الله منزلة لم يبلغها بعمله ابتلاه الله في جسده أفي ماله أو في ولده ثم صبره علی ذلك يبلغه المنزلة التي سبقت له من الله”. رواه أحمد وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن خالدسلمی سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۱∞؎راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندہ کے لیئے کوئی درجہ رب کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوجہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو الله اسے اس کےجسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلاکردیتا ہے پھر اسے اس پرصبربھی دیتا ہے حتی کہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جو رب کی طرف سے اس کے لیئے مقدر ہوچکا۲؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی محمد ابن خالد کے دادا سے جوصحابی ہیں،عرصہ تک صحبت پاک میں رہے،ان کا نام شریف جلاج ابن حکیم ہے۔۲؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مصیبت پرصبر الله کی توفیق سے ملتا ہے نہ کہ اپنی ہمت و جرأت سے اور صبر الله کی بہت بڑی نعمت ہے۔دوسرے یہ کہ درجات اعمال سے ملتے ہیں،بخشش رب کے کرم سے۔علماءفرماتے ہیں کہ جنت کا داخلہ الله کے فضل سے ہوگا مگر وہاں کے درجات مؤمن کے اعمال سے،مگر کبھی دوسرے کے عمل بھی کام آجاتے ہیں، صابرمؤمن کی چھوٹی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہے گی ا گرچہ کچھ عمل نہ کرسکی،کیوں؟ماں باپ کے عمل سے،رب فرماتا ہے:"اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْاِنْ شَاءَاللّٰهُحضورصلی الله علیہ وسلم کے اعمال میں،امام حسین علیہ السلام کے صبر میں ہم گنہگاروں کا حصہ ہے،سخی کے مال میں فقیروں کا حصہ،ان سرکاروں کے اعمال میں ہم بدکاروں کا حصہ،رب فرماتا ہے:"وَ فِیۡۤ اَمْوٰلِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوۡمِتیسرے یہ کہ انسانوں کے درجات وغیرہ پہلے سے ہی مقرر ہوچکے ہیں جہاں لامحالہ پہنچنا ہے،قیامت کے دن اس کا ظہور ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1568