Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1543

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أُمِّ السَّائِبِ فَقَالَ: “مَالَكِ تُزَفْزِفِينَ؟” . قَالَتِ: الْحُمّٰى لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا فَقَالَ: “لَا تَسُبِّي الْحُمّٰى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم علی أم السائب فقال: “مالك تزفزفين؟” . قالت: الحمى لا بارك الله فيها فقال: “لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضرت ام السائب کے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو،بولیں بخار ہے اس کا ستیاناس ہو فرمایا بخارکو برا نہ کہو وہ تو انسان کی خطائیں ایسے دورکرتا ہے جیسےبھٹی لوہے کے میل کو ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اور بیماریاں ایک یا دوعضو کو ہوتی ہیں مگر بخار سر سے پاؤں تک ہر رگ میں اثرکرتا ہے،لہذا یہ سارے جسم کی خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرائے گا۔امام سیوطی نے ایک کتاب لکھیکشف الغمہ فی اخبار الحمی،اس میں بروایت حسن مرفوعًا نقل کیا کہ ایک رات کا بخار تمام خطائیں معاف کرادیتا ہے،حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ مؤمن کا ایک رات کا بخار ایک سال کا کفارہ ہے،حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ بخارجہنم کی بھٹی ہے الله تعالٰی اس کی وجہ سے مؤمن کو جہنم سے بچاتاہے،حضرت ابی ابن کعب نے دعا مانگی تھی کہ خدایا مجھے ایسا بخارنصیب کر جوتیری راہ میں چلنے،تیرے گھر آنے اورتیرے نبی کی مسجد تک پہنچنے سے نہ روکے۔چنانچہ آپ کو ہمیشہ ہلکا بخار رہتا تھا اور اسی حال میں مسجد وغیرہ جایاکرتے تھے۔(مرقاۃ)امام اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضا خاں صاحب بریلوی فرماتے ہیں کہالحمدللّٰہمجھے بھی ہمیشہ ہلکا بخار رہتا ہےمگر اس حالت میں اعلیٰ حضرت نے دین کی وہ خدمتیں کیں کہسُبْحَانَ اللّٰهِ!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1543