Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1577

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاسٍ رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلٰى. قَالَ: هٰذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادع الله تَعَالٰى لي. قَالَ: “إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالٰى أَنْ يُعَافِيَكَ” فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عطاء بن أبي رباح قال: قال لي ابن عباس رضي الله عنه: ألا أريك امرأة من أهل الجنة؟ فقلت: بلى. قال: هذه المرأة السوداء أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إني أصرع وإني أتكشف فادع الله تعالى لي. قال: “إن شئت صبرت ولك الجنة وإن شئت دعوت الله تعالى أن يعافيك” فقالت: أصبر فقالت: إني أتكشف فادع الله أن لا أتكشف فدعا لها(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں میں نے کہا ہاں ضرور فرمایا یہ کالی عورت ۲؎یہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور عرض کیا تھا یارسول الله میں مرگی میں گر جاتی ہوں۳؎اورکھل جاتی ہوں میرے لیئے الله سے دعا کیجئے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبرکر جنت تیرے لیئے ہے۴؎اگر توچاہے تو میں الله سے دعا کردوں کہ تجھے آرام دے۵؎وہ بولی میں صبرکروں گی پھر بولی کہ میں کھل جاتی ہوں الله سے یہ دعا کردیں کہ میں کھلا نہ کروں حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیئے دعا کی ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سےجلیل الشان فقیہ وعالم ہیں،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان جیسا فاضل نہ دیکھا۔سیاہ رنگ تھے، پہلے ایک آنکھ بیکارتھی بعد میں نابینا ہوگئے تھے،پاؤں سےبھی معذور تھے،آپ کے فوت ہونے کے دن امام اوزاعی نے فرمایا کہ آج زمین بہترین مؤمن سے خالی ہوگئی۔(اشعہ)۲؎اس مبارک عورت کا نام سعیرہ یا سقیرہ ہے،بی بی خدیجہ کی کنگھی چوٹی کی خدمت انجام دیتی تھیں۔(لمعات ومرقات)۳؎یعنی گرکر مجھے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا،دوپٹہ وغیرہ اتر جاتا ہے،خوف کرتی ہوں کہ کبھی بے ہوشی میں ستر نہ کھل جائے۔۴؎اس میں اشارۃً معلوم ہوا کہ کبھی بیماری کی دوا اور مصائب میں دعا نہ کرنا ثواب اور صبرمیں شامل ہے،اس کا نام خودکشی نہیں،خصوصًا جب پتہ لگ جائے کہ یہ مصیبت رب کی طرف سے امتحان ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرت حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں دفعیہ کی دعا نہ کی،ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنت ہے اور دعاءبھی،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اکثر دعا کی ہے اور صدیق اکبر نے مرض وفات میں دوا بھی۔خیال رہے کہ مرن برت رکھ کر جان دے دینا خودکشی ہے اور مشرکوں کی پیروی کیونکہ کھانا اور پانی دوا نہیں بلکہ زندگی کا مدار ہے۔۵؎اگرچہ آرام ہونے پر بھی تو جتنی تو ہوگی کیونکہ تو مؤمنہ اور صحابیہ ہے مگر صبر پر جنت کے اعلیٰ مقام کی مستحق ہوگی اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہاں جنت کی نفی نہ کی۔۶؎چنانچہ اس دعا کے بعد وہ بی بی کبھی مرگی میں کھلی نہیں،رب نے ان پر فرشتہ مقرر کردیا ہوگا جو ان کے پردے کی حفاظت کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1577