Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1566

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وإن الله عز وجل إذا أحب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط” . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بڑا ثواب بڑی بلاءکے ساتھ ملتا ہے ۱∞؎الله تعالٰی جب کسی قوم سےمحبت کرتا ہے تو انہیں مبتلاکردیتا ہے جو راضی ہوتا ہے اس کے لیئے رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیئے ناراضی ہے۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎مقصد یہ ہے کہ کسی مؤمن صالح کو بلاؤں میں گرفتار دیکھ کر یہ نہ سمجھ لو کہ یہ برا آدمی ہے،نیکوں پر بڑی مصیبتیں بڑے درجات ملنے کا ذریعہ ہیں۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کافر و بدکار پر بڑی بلا آجائے تو اس کا درجہ بڑا ہوگیا،یہ سب کچھ مؤمن کے لیے ہے،مُردے کو بہترین دوائیں دینا بیکار ہے،جڑ کٹے درخت کی شاخوں کو پانی دینا بے سود،اگر کافر عمر بھرمصیبت میں رہے،جب بھی دوزخی ہے اور اگر مؤمن صالح عمر بھر آرام میں رہے جب بھی جنتی،ہاں تکلیف والے مؤمن کے درجے زیادہ ہوں گے بشرطیکہ صابر اور شاکر رہے۔۲؎خیال رہے کہ رضا یا ناراضی دل کا کام ہے،لہذا تکلیف میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں،ناراضی یہ ہے کہ دل سےسمجھے کہ رب نے مجھ پرظلم کیا میں اس بلا کامستحق نہ تھا۔یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعدہے،پہلے الله بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہوکر اچھے اعمال کی توفیق پاتاہے،پہلے وہ ہمیں یادکرتا ہے تو بعدمیں ہم اسےیادکرتے ہیں،پھر ہماری یاد کے بعد رب ہمیں یادکرتاہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"یہ کیونکہ بہت باریک ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گفت الله گفتنت لبیک ما است ایں گداز و سوز و درد از پیک ما است

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1566