Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1564

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهٗ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهٗ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهٗ ثُمَّ يَقُولُ: “اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلیٰ مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعنها قالت: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالموت وعنده قدح فيه ماء وهو يدخل يده في القدح ثم يمسح وجهه ثم يقول: “اللهم أعني علی منكرات الموت أو سكرات الموت” . رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو وفات کی حالت میں دیکھا آپ کے پاس پانی کا پیالہ تھا آپ پیالے میں ہاتھ ڈالتے پھر چہرۂ انور پرپھیر لیتے ۱∞؎اورعرض کرتے الٰہی موت کی سختیوں یا دشواریوں پر میری مدد فرما ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎غشی یا تپش دورکرنے کے لیے یہ عمل فرماتے تھےکیونکہ بوقتِ موت بہت گرمی محسوس ہوتی ہے اسی لیے اکثر اس وقت میت کو پسینہ آجاتا ہے اور پیاس کا غلبہ ہوتا ہے اسی لیے اس وقت منہ میں پانی ٹپکانے کا حکم ہے اگرچہ سردی کا موسم ہو۔۲؎بعض شارحین نے فرمایا کہ منکرات سے مراد وسوسے اور برے خیالات ہیں جن سے میت کا دھیان رب سے ہٹ جائے اور سکراتسکرۃکی جمع ہے،بمعنی غشی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰییہاں وہ تکلیف مراد ہے جو عقل زائل کردے یعنی سخت تکلیف اور یہ دعا امت کی تعلیم کے لیے ہے کہ اس وقت یہ دعا کیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ مجھے ان تکالیف کو برداشت کرنے کی طاقت دے یا انہیں کم فرمادے،یہاں شیخ نے فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سلطنت الہیہ کے متولی اورمنتظم ہیں،کون و مکان کے سارے احکام آپ کو سپرد ہیں،تمام جہان حضور صلی الله علیہ وسلم کے دائرہ حکومت میں ہے، ایسی ذمہ دارہستی جب احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جائے تو اسے ہیبت زیادہ ہوتی ہے،اس وقت حضورصلی الله علیہ وسلم پر ہیبت الہیہ کا غلبہ تھا،اس کی کیفیت تھی۔(اشعۃ اللمعات)اسی شدت کی اور بہت وجہ بیان کی گئی ہیں،مگر حق یہ ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے حالات ہمارے عقل وقیاس سے وراء ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1564