Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1558

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُصِيبُ عَبْدًا نَكْبَةٌ فَمَا فَوْقَهَا أَوْ دُونَهَا إِلَّا بِذَنْبٍ وَمَا يَعْفُو اللهُ عَنْهُ أَكْثَرُ وَقَرَأَ: (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوْ عَنْ كَثِيْرٍ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يصيب عبدا نكبة فما فوقها أو دونها إلا بذنب وما يعفو الله عنه أكثر وقرأ: (وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير) رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بندے کومصیبت یا اس سے کم و بیش تکلیف گناہ کے بغیرنہیں پہنچتی ۱∞؎اورجوکچھ رب معاف کردیتا ہے وہ بہت ہے اور آیت یہ تلاوت کی جو مصیبت تمہیں پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سےتھی رب تو بہت معافی دیتاہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بندوں سے مرادہم جیسے گنہگار بندے ہیں کہ ہم کو جوتکلیف پہنچتی ہے وہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہے،اس قاعدے سے بے گناہ بچے،انبیاءاوربعض محفوظ اولیاء علیحدہ ہیں جنہوں نےکبھی گناہ کیا ہی نہیں اور تکلیف و بیماری انہیں بھی آتی ہے،ان بزرگوں کے متعلق گزشتہ احادیث تھیں کہ ان لوگوں کے درجے بڑھانے کے لیے بیماریاں آتی ہیں،لہذا نہ تو یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف ہے اور نہ اس سے آریوں کا آواگون کا مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے پچھلی جنم گناہ کئے تھےجس کی سزا اب مل رہی ہے اور نہ یہ حدیث عصمت انبیاء کے خلاف ہے۔اگر نبی بے گناہ ہوتے تو انہیں بیماری و مصیبت کیوں آتی۔غرضکہ اس حدیث کو نہ سمجھ کر بے دینوں نے بہت سے غلط مسائل اس سے نکال لیئے،بعض مفسرین نے فرمایا کہ آیت "وَمَاۤ اَصابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ"میں ایک خاص مصیبت مراد ہے یعنی غزوہ احد میں جوتمہیں مصیبت اور شکست پہنچی وہ تمہاری اپنی غلطی سےتھی کہ تم نے درہ خالی چھوڑ دیا جس سے کفار لوٹ کر تم پر ٹوٹ پڑے۔اس صورت میں آیت بالکل واضح ہے۔۲؎یعنی رب تعالٰی تمہاری بہت خطاؤں سے درگزر فرمادیتاہے،بعض پرمعمولی پکڑکرتا ہے وہ بھی تمہیں آگاہ کرنے اور آئندہ احتیاط رکھنے کے لیے،اس پکڑ میں بھی اس کا کرم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1558