Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1546

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيْدُ فِي سَبِيْلِ اللهِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “الشهداء خمسة المطعون والمبطون والغريق وصاحب الهدم والشهيد في سبيل الله» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شہید پانچ ہیں ۱∞؎طاعون والا،پیٹ کی بیماری والا،ڈوبا ہوا،دب کر مرنے والا اور الله کی راہ کا شہید۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شہید کے معنی ہیں گواہ یا حاضر،چونکہ قیامت میں شہید سرکاری گواہ ہوگا،نیز وہ اپنے خون سے توحید و رسالت کی گواہی دیتاہے اور یہ مرتے ہی بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتا ہے اور اس کی جان کنی پر رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں،ان وجوہ سے اسے شہید کہتے ہیں۔شہیدحقیقی وہ ہے جو ظلمًا قتل ہو۔اور شہیدحکمی وہ جنہیں شہادت کا ثواب دے دیا جائے،شہید حکمی قریبًا ۸۰ہیں جس میں سے یہاں پانچ کا ذکرہے:جو طاعون کی بیماری میں صابرہوکرمرے وہ شہیدہے،جوپیٹ کی بیماری دست وغیرہ میں مرے، اتفاقیہ ڈوب جائے،اونچے سےگر جائے یا عمارت میں دب جائے یہ سب حکمی شہید ہیں۔دیدہ دانستہ دریا میں ڈوبنے والے یا اوپر سےکودنے والے حرام موت مریں گے شہید نہ ہوں گے،اس جگہ مرقاۃنے شہادت کی بہت سی قسمیں بیان فرمائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1546