Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1592

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا فَقَالَ لَهٗ : “مَا تَشْتَهِيْ؟” قَالَ: اِشْتَهِيْ خُبْزَبُرٍّ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ كَانَ عِنْدَهٗ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلٰى أَخِيهِ” . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا اشْتَهٰى مَرِيْضُ أَحَدَكُمْ شَيْئاً فَلْيُطْعِمْهُ “ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا فقال له : “ما تشتهي؟” قال: اشتهي خبزبر. قال النبي صلى الله عليه وسلم : “من كان عنده خبز بر فليبعث إلى أخيه” . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم : “إذا اشتهى مريض أحدكم شيئا فليطعمه “ . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کی تو فرمایا تیرا دل کیا چاہتا ہے وہ بولا گیہوں کی روٹی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو وہ اپنے اس بھائی کو بھیج دے ۱∞؎پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رؤف و رحیم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارا بیمار کچھ چاہے تو اسے کھلا دو ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اللهاکبر!صحابہ کرام کے فقرو قناعت میں غورکرو کہ نہ بیمار کے گھر گیہوں کی روٹی ہے نہ خود سرکار کے ہاں اس لیے اعلان کرنا پڑا کہ اگرکسی کے ہاں گیہوں کی روٹی کا ٹکڑا ہو تو ان کے لیےبھیجو اور آج ان کے طفیل ان کے نام لیوا نعمتیں کھارہے ہیں۔شعر
بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
۲
؎سُبْحَانَ اللّٰہ! کیا حکیمانہ حکم ہے۔بیمار کا دل جس چیز کی سچی خواہش کرے اسی میں اس کی شفا ہوتی ہے بشرطیکہ خواہش سچی ہو،جھوٹی خواہش نقصان دہ ہے،سچی اورجھوٹی خواہش کا فرق طبیب کرسکتا ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں مایوس بیمار مراد ہے یعنی جب بیمار کی زندگی کی امید نہ رہے تو اسے پرہیز نہ کراؤ جو مانگے دے دو تاکہ دنیا سے ترستا ہوا نہ جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1592