Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1538

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعِكُ فَمَسَسْتُه بِيَدِهٖ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ” . قَالَ: فَقُلْتُ: ذٰلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: “أَجَلْ” . ثُمَّ قَالَ: “مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهٗ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ تَعَالٰى بِهٖ سَيِّئَاتِهٖ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: دخلت علی النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوعك فمسسته بيده فقلت: يا رسول الله إنك لتوعك وعكا شديدا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : “أجل إني أوعك كما يوعك رجلان منكم” . قال: فقلت: ذلك لأن لك أجرين؟ فقال: “أجل” . ثم قال: “ما من مسلم يصيبه أذى من مرض فما سواه إلا حط الله تعالى به سيئاته كما تحط الشجرة ورقها”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ کو بخارتھا میں نے اپنے ہاتھ سے جسم اطہر چھوا توعرض کیا یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم حضورکو بخار بہت ہی سخت آتا ہے ۱∞؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھ کو تمہارے دو شخصوں کے برابر بخار ہواکرتا ہےفرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہوگا کہ حضورکو ثواب بھی دوگنا ہے ۲؎فرمایا ہاں پھر فرمایا کوئی مسلمان ایسانہیں جسےکوئی تکلیف بیماری وغیرہ پہنچے مگر الله تعالٰی اس کے گناہ یوں جھاڑ دیتا ہےجیسے درخت اپنے پتوں کو ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تُوعَك وَعكٌسے بنا،بمعنی بخار کی گرمی اور تکلیف۔اس جملہ سےمعلوم ہوا کہ غلام آقاکی مزاج پرسی بھی کرے اور اس کےجسم کو ہاتھ بھی لگائے۔خیال رہے کہ بخارمرضِ انبیاء ہے،ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وفات بخار ہی سے ہوئی۔۲؎یہ ہے صحابہ کا ادب و احترام،یعنی یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ تو وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ کی بیماری خطاؤں کی معافی کے لیے ہو،آپ کو گناہ و خطا سے نسبت ہی کیا،آپ کی بیماری صرف بلندیٔ درجات کے لیے ہوسکتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے ہم گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں ان سے نیک کاروں کے درجے بڑھتے ہیں۔۳؎مسلمان سے مراد گنہگارمسلمان ہے۔بے گناہ مسلمان جیسے ابوبکرصدیق وغیرہم اور ناسمجھ بچے اس حکم سے علیحدہ ہیں،ان کے درجے بلند ہوں گے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ لفظ مسلم اور مؤمن میں حضورصلی الله علیہ وسلم داخل نہیں ہوا کرتے،یہ الفاظ تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی امت کے لیے ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم توعین ایمان ہیں،ہم نے اپنی "تفسیرنعیمی"پہلے پارے میں ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم میں"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا"میں امت سے خطاب ہوتا ہے جس میں حضور صلی الله علیہ وسلم داخل نہیں ہوتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1538