Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1556

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُوْدُ مَرِيضاً فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلٰى جِنَازَةٍ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا جاء الرجل يعود مريضا فليقل اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة” رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کو جائے تو یوں کہے الٰہی اپنے بندے کو شفادے وہ تیری راہ میں تیرے دشمن کو زخمی کرے گا یا کسی جنازے میں جائیگا ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اے مولیٰ اگر تو نے اسے شفاء دے دی تو ممکن ہے کہ کبھی تلوار یا قلم یا زبان سےکفار کا جسم یا دل زخمی کرے یا کبھی مسلمان بھائی کو ادنیٰ نفع پہنچادے کہ بعدموت اس کے جنازے میں شرکت کرے۔معلوم ہوا کہ آئندہ یا گذشتہ نیک اعمال کی برکت سے دعاکرنا سنت ہے اور جب الله کسی بیمارکو شفاء دے تو اس کے شکریہ میں نیکیاں کرے اور کفار کو جنگ میں ایذا دینا ایسا ہی ثواب ہے جیسا مسلمان کو راحت پہنچانا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1556