Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1550

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا غَدْوَةً إِلَّا صَلّٰى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى یُمْسِيْ وَاِنْ عَادَهٗ عَشِيَّۃً اِلَّا صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتّٰى يُصْبِحَ وَكَانَ لَهٗ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

عن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من مسلم يعود مسلما غدوة إلا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى یمسي وان عاده عشيۃ الا صلی علیہ سبعون ألف ملك حتى يصبح وكان له خريف في الجنة ". رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جوکسی مسلمان کی صبح کے وقت بیمار پرسی کرے مگر ستر ہزار فرشتے اسے شام تک دعائیں دیتے ہیں اور اگر شام کو بیمار پرسی کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعائیں دیتے ہیں اور اس کے لیئے جنت میں باغ ہوگا ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صبح سے لے کر دوپہر تک کو غدوۃ کہا جاتا ہے اور زوال سے شروع رات تک عشاء۔خریف چنے ہوئے پھلوں کو بھی کہتے ہیں اور باغ کو بھی،یہاں دوسرے معنے مراد ہیں یعنی بیمار پرسی معمولی سی نیکی معلوم ہوتی ہے مگر یہ لاتعداد فرشتوں کی دعا ملنے کا ذریعہ ہے اور جنت ملنے کا سبب بشرطیکہ صرف رضائے الٰہی کے لیے ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1550