Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1529

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلیٰ أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهٗ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلیٰ مَرِيضٍ يَعُودُهٗ قَالَ: “لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ “ فَقَالَ لَهٗ : “لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ “ . قَالَ: كَلَّا بَلْ حُمّٰى تَفُورُ عَلیٰ شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيْرُهُ القُبُورُ. فَقَالَ: “فَنَعَمْ إِذاً” . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل علی أعرابي يعوده وكان إذا دخل علی مريض يعوده قال: “لا بأس طهور إن شاء الله “ فقال له : “لا بأس طهور إن شاء الله “ . قال: كلا بل حمى تفور علی شيخ كبير تزيره القبور. فقال: “فنعم إذا” . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک بدوی کے پاس بیمار پرسی کے لیئے تشریف لے گئے اور جب بھی آپ کسی بیمار کی عیادت فرماتے تو کہتے تھےکوئی ڈرنہیں خدانے چاہا یہ توصفائی ہے ۱∞؎چنانچہ اس سےبھی فرمایا کہ کوئی ڈرنہیںاِنْ شَاءَاللّٰهُصفائی ہے وہ بولا ہرگز نہیں یہ تو بہت بوڑھے پر بخار جوش ماررہا ہے اسے قبر جھنکا دے گانبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تو ایسے ہی سہی۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گناہوں سے صفائی ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاؤ کیونکہ بعض چھوٹی بیماریاں بڑی بیماریوں سے انسان کو محفوظ کردیتی ہیں،ایک زکام پچپن بیماریوں کو دور رکھتا ہے،خارش والے کو کبھی کوڑ ھ نہیں ہوتی۔اس حدیث سےحضور صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ معلوم ہوئے کہ ہرغریب و امیر کے گھر بیمار پرسی کے واسطے تشریف لے جاتے۔سُبْحَانَ اللّٰهِ!کیسا پاکیزہ کلمہ ہے کہ ایک طہور میں جسمانی،جنانی،روحانی صفائیوں کا ذکر فرمادیا۔۲؎یعنی اگر تو خدا کی رحمت سے مایوس ہے تو پھر تو جان،یہ ارشاد اظہارکرنا راضی کے لیے ہے۔معلوم ہوا کہ بیماری میں رب سے مایوس نہیں ہونا چاہیے،صابروشاکر رہناضروری ہے۔یہ صاحب بدوی تھے جو ان آداب سے بے خبر تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1529