Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1524

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقُّ الِمُسْلِم عَلَی الِمُسْلِم خَمْسٌ: رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " حق المسلم علی المسلم خمس: رد السلام وعيادة المريض واتباع الجنائز وإجابة الدعوة وتشميت العاطس "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۱∞؎سلام کا جواب دینا،بیمارکی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا،چھینک کا جواب دینا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پانچ کی تعداد حصر کے لیے نہیں بلکہ اہتمام کے لیے ہے یعنی پانچ حق بہت شاندار اورضروری ہیں کیونکہ یہ قریبًا سارے فرض کفایہ اورکبھی فرض عین ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ حقوق بیان ہوئے۔خیال رہے کہ یہ اسلامی حقوق ہیں۔مسلمان فاسق ہویا متقی سب کے ساتھ یہ برتاوے کیے جائیں،کافروں کا ان میں سےکوئی کوئی حق نہیں۔۲؎بیمارکی عیادت اور خدمت یوں ہی جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے،کبھی فرض کفایہ،کبھی فرض عین،یوں ہی دعوت میں شرکت کھانے کے لیے یا وہاں انتظام و کام و کاج کے لیے سنت ہے، کبھی فرض لیکن اگر خاص دسترخوان پرناجائز کام ہوں جیسے شراب کا دور یا ناچ گانا تو شرکت ناجائزہے،چھینکنے والاالحمدللہکہے تو سننے والے سب یا ایک جواب میں کہیں "یَرْحَمُكَ الله"پھرچھینکنے والاکہے"یَھْدِیْکُمُ الله وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ"اور اگر وہ حمد نہ کرے یا اسے زکام ہےکہ باربارچھینکتاہے تووہ پھر جواب ضروری نہیں۔سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا فرض مگر ثواب سلام کا زیادہ ہے،یہ ان سنتوں میں سے ہے جس کا ثواب فرض سے زیادہ ہے۔(شامی ومرقاۃ وغیرہ)اس کے مسائلاِنْ شَاءَاللّٰهُ"کتاب الادب"میں آئیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1524