Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1542

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تزَالُ الرِّيْحُ تُمِيْلُهٗ وَلَا يزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ البَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزَّ حَتّٰى تَسْتَحْصَدَ”

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “مثل المؤمن كمثل الزرع لا تزال الريح تميله ولا يزال المؤمن يصيبه البلاء ومثل المنافق كمثل شجرة الأرزة لا تهتز حتى تستحصد”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مؤمن خوشی سے مرتا ہے اورمنافق جبرًا موت دیاجاتاہے،موت ایک ریل ہے جو دولہا کو سسرال تک پہنچاتی ہے اورپھانسی کے مجرم کو پھانسی تک مؤمن کی دنیوی تکلیفیں آخرت کی راحت کا سبب ہیں،منافق کی دنیوی راحتیں آخرت کی مصیبتوں کا ذریعہ،یہ بھی قاعدہ اکثریہ ہے،ورنہ مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام سے رہےاِنْ شَاءَاللّٰهُآخرت کے دائمی عذاب سے بچے گا،کافر دنیا میں کتنی ہی مصیبت سے رہے مگر آخرت میں نجات نہیں پاسکتا۔روح البیان میں ایک جگہ فرمایا کہ ایک مصیبت زدہ کافر نے کسی عیش والے مؤمن سے کہا کہ تمہارے نبی نے فرمایا ہے دنیا مؤمن کی جیل ہے اور کافر کی جنت مگر یہاں تم جنت میں ہو اورمیں جیل میں،انہوں نے فورًا جواب دیا کہ تو آخرت کی مصیبتوں کو دیکھ کر دنیا کی ان تکالیف کو جنت سمجھے گا اور ہم راحتوں کو دیکھ کر یہاں کی عیش کوجیل سمجھتے ہیں اورسمجھیں گے،نیز ہم ان عیشوں میں دل نہیں لگاتے،جیل اگرچہ اے کلاس ہو مگر جیل ہے اور تم یہاں سے جانا نہیں چاہتے،ہمارے نبی کی حدیث بالکل صحیح ہے۔صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1542