Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1572

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَی المَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهٗ فِي أَجَلِهٖ فَإِنَّ ذٰلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيَطِيْبُ بِنَفْسِهٖ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا دخلتم علی المريض فنفسوا له في أجله فإن ذلك لا يرد شيئا ويطيب بنفسه” . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو کچھ درازیٔ حیات کی بات کرکے اس کا غم دور کرو ۱∞؎کیونکہ یہ گفتگو تقدیر کو رد نہ کرے گی اور اس کا دل خوش ہوجائیگا۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎نَفِّسُوْاتَنْفِیْسسے بنا،بمعنی تفریح یعنی غم دورکرنا،بیمارکو ڈراؤ نہیں کہ تو بچے گا نہیں مرض بہت سخت ہے بلکہ کہواِنْ شَاءَاللّٰهُشفا ہوگی گھبراؤ نہیں،بعض طبیب مریض کے آخر دم تک ہمت بندھانے والی باتیں کرتے ہیں،اسے مایوس نہیں ہونے دیتے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اس کا نام دھوکا دہی نہیں بلکہ اسے تسکین کہتے ہیں۔مایوس بیمارکی ہمت ٹوٹ جاتی ہے جس سے وہ اور زیادہ نڈھال ہوکر بہت تکلیف اٹھاتا ہے۔۲؎یعنی تمہارے ڈھارس بندھانے سے اس کی ہمت بڑھ جائے گی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ موت کے وقت میت کو وضو،مسواک کرادینا،خوشبو لگادینا مستحب ہے اس سے جانکنی آسان ہوتی ہے بلکہ اگر ممکن ہو تو اس وقت اسےغسل کرادو،عمدہ کپڑے پہنا دو،اگر ہوسکے وہ دو۲رکعت نفل نماز وداع کی نیت سے پڑھے،یہ باتیں حضرت سلمان فارسی،حضرت خبیب اور حضرت سیدہ فاطمہ الزہراہ سے منقول ہیں کہ انہوں نے بوقت وفات یہ اعمال کیے یہ سبیَطِیْبُ بِنَفْسِہٖمیں داخل ہیں کہ اس سے میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1572