Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1533

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهٗ شَكَا إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهٗ فِي جَسَدِهٖ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْ يَدَكَ عَلَی الذِي يَأْلَمُ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ ثَلَاثًا وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهٖ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ". قَالَ: فَفَعَلْتُ فَأَذْهَبَ اللهُ مَا كَانَ بِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عثمان بن أبي العاص أنه شكا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا يجده في جسده فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ضع يدك علی الذي يألم من جسدك وقل: بسم الله ثلاثا وقل سبع مرات: أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر ". قال: ففعلت فأذهب الله ما كان بي. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں درد کی شکایت کی جو ان کےجسم میں تھا ۱∞؎تو ان سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنےجسم کے بیمارحصہ پر اپنا ہاتھ رکھو،تین باربسم اللهاور سات بار یہ دعا پڑھو،میں الله کی عزت اور الله کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے جو اب میں پاتا ہوں اور جس سے آئندہ خوف کرتا ہوں میں نے یہ عمل کیا تو الله نے میری بیماری دورکردی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ بیماری،ناداری اورتمام مصائب کی شکایت حضورصلی الله علیہ وسلم سے کرسکتے ہیں۔ہم گنہگاروں کا حضور صلی الله علیہ وسلم سے فریادکرنا اسی حدیث سے ماخوذ ہے،اس میں رب سے ناراضی نہیں بلکہ اپنے شہنشاہ سے فریاد ہے اور دفعیہ کے لیے عرض معروض ہے جیسے مظلوم حاکم سے اور بیمارحکیم سے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں۔۲؎خیال رہے کہ ان صحابی نے خود ہی دعا نہ مانگی بلکہ حضورصلی الله علیہ وسلم سے اجازت لےکر دعا کی۔مشائخ کرام سے جو وظیفوں اور دعاؤں کی اجازت لی جاتی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے،اجازت سے عمل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے،دعائیں کارتوس ہیں اور بزرگوں کی زبان اور اجازت رائفل،بغیر رائفل شیر مارنے والا کارتوس مرغی کو نہیں مارسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1533