Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1535

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ: “أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ” وَيَقُولُ: “إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمٰعِيْلَ وَإِسْحَاقَ” . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي أَكْثَرِ نُسَخِ الْمَصَابِيْحِ: “بهما” عَلیٰ لفظ التَّثْنِيَة

وعن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسین: “أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة” ويقول: “إن أباكما كان يعوذ بها إسمعيل وإسحاق” . رواه البخاري وفي أكثر نسخ المصابيح: “بهما” علی لفظ التثنية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم حسن وحسین پر یوں تعویذ کرتے کہ میں تمہیں الله کے پورے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ۱∞؎ہر شیطان و زہریلے جانور سے اور ہر بیمارکرنے والی نظر سے۲؎اور فرماتے کہ تمہارے والد اسی دعا سے حضرت اسمعیل و اسحاق کوتعویذکرتے تھے ۳؎(بخاری)اورمصابیح کے اکثر نسخوں میں تثنیہ کے لفظ سے ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎کلمات الله سے مراد سارے اسماء الہیہ ہیں،چونکہ وہ ہرنقص اورخرابی سے پاک ہیں اس لیے انہیںتامّاتکہا گیا جیسے الله کی پناہ لینا ضروری ہے ایسے ہی اس کے ناموں کی پناہ بھی ضروری ہے۔صوفیاء کی اصطلاح میں عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ الله ہیں،موسیٰ علیہ السلام کلیم الله ہیں اورحضورمحمدمصطفی صلی الله علیہ وسلم کلمات الله ،حضورصلی الله علیہ وسلم کی پناہ رب ہی کی پنا ہ ہے،صحابہ کر ام تو بیماریوں میں آپ کے بال اورلباس سے شفاء حاصل کرتے تھے۔۲؎معلوم ہوا کہ جن اور نظر بد سے بھی انسان بیمار ہوجاتا ہے،جن کا اثر قرآن حکیم سے ثابت ہے۔۳؎اس میں اشارہ ہے کہ جیسے حضرت اسمعیل واسحا ق ذریت ابراہیمی کی معدن اور کان ہیں یوں یہی حضرت حسن و حسین نسل مصطفی کی اصل ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1535