Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1548

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلیٰ طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلیٰ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدِمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أسامة بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “الطاعون رجز أرسل علی طائفة من بني إسرائيل أو علی من كان قبلكم فإذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طاعون ایک عذاب تھا جو بنی اسرائیل کے ایک ٹولہ پر یا تم سے پہلے والوں پربھیجا گیا ۱∞؎تو جب تم اسےکسی زمین میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اورجب وہاں پھیل جائے جہاں تم ہوتووہاں سے نہ بھاگو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہی بنی اسرائیل تھے جن سے کہا گیا تھا کہ تم توبہ کے لیے بیت المقدس میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ تو وہ گھسٹتے ہوئے گئے تھے،انہیں پر طاعون بھیجا گیا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِاس سے معلوم ہوا کہ محبوبوں کے شہروں کی بے ادبی کرنے پر عذاب الٰہی آجاتا ہے۔۲؎کیونکہ یہ ایک بلاء ہے اور بلاء میں خود جانانہیں چاہیے اور جب آجائے تو گھبرانا نہیں چاہیے۔خیال رہے کہ بلاء سے فرار نہیں بچاتا بلکہ استغفار بچاتا ہے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر کوئی طاعون کی جگہ سےکسی ضرورت کے لیے باہر جائے مضائقہ نہیں،بھاگنے کی نیت سے نکلنا گناہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1548