Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1547

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَنِي: “أَنَّهٗ عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلیٰ مَنْ يَشَاءُ وَأَنَّ اللهَ جَعَلَهٗ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهٖ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهٗ لَا يُصِيبُهُ الا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ الا كَانَ لَهٗ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ” . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن عائشة قالت: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطاعون فأخبرني: “أنه عذاب يبعثه الله علی من يشاء وأن الله جعله رحمة للمؤمنين ليس من أحد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا محتسبا يعلم أنه لا يصيبه الا ما كتب الله له الا كان له مثل أجر شهيد” . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو حضورصلی الله علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ وہ ایک عذاب ہے الله جس پر چاہے بھیجے ۱∞؎البتہ رب نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت بنادیا ایسا کوئی نہیں کہ جس کے شہرمیں طاعون پھیلے وہ وہاں صبرکرکے اجر کے لئے ٹھہرے یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی پہنچے گا جو الله نے اس کے لیئے لکھا مگر اسے شہید کا سا ثواب ہوگا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی طاعون کفار پر عذاب ہے جو کافر اس میں مرے گا وہ عذاب کی موت مرے گا۔۲؎یعنی یہ صابر خواہ طاعون میں فوت ہوجائے یا نہیں جب بھی مرے گا اسے درجۂ شہادت ملے گا،گویا طاعون میں صبر شہادت کے اجر کا باعث ہے جیسے کہ روایات میں ہے کہ جو تا جر باہر سے غلہ لاکر فروخت کیا کرے تاکہ شہر کا قحط دور ہو جب مرے گا جیسے مرے گا شہید ہوگا،یونہی طالب علم اور مؤذن۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1547