Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1584

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ: " أَبْشِرْ فَإِنَّ اللهَ تَعَالٰى يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلیٰ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكَوُنَ حَظَّهٗ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَابْنُ مَاجَهْ والْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عاد مريضا فقال: " أبشر فإن الله تعالى يقول: هي ناري أسلطها علی عبدي المؤمن في الدنيا لتكون حظه من النار يوم القيامة ". رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی تو فرمایا تجھے بشارت ہو کہ الله تعالٰی فرماتا ہے بخار میری آگ ہے ۱∞؎اسی لئے میں اپنے مؤمن بندے پر دنیامیں اسی لئے مسلط کرتا ہوں کہ قیامت کےدن اس کی آگ کاحصہ(بدلہ)ہوجائے ۲؎(احمد،ابن ماجہ، بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎رحمت ومہربانی کی آگ،اسی لیے اس آگ کو اپنی طرف منسوب فرمایا اور اس کے لیے مؤمن کو خاص کیا،جو آگ گناہ جلادے وہ رحمت ہی ہے،عشق و محبت کی،خوف خدا کی آگ بھی آگ ہے جو ماسواے الله کو پھونک دیتی ہے۔۲؎چنانچہ ابن ابی دنیا،ابن جریر،ابن منذر،ابن بی حاتم اوربیہقی نے شعب الایمان میں حضرت مجاہد سے آیت کریمہ "وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا"کی تفسیر یوں ہی نقل کی کہ بخار مؤمن کے لیے جہنم کی آگ کا حصہ ہے،امام حسن سے مرفوعًا نقل ہے کہ ہر آدمی کے نصیب میں آگ کا حصہ ہے مگر مؤمن کی آگ بخار ہے جوکھال جلا دیتا ہے اور دل محفوظ رکھتا ہے۔مؤمن سے مراد مؤمن کامل ہے،ورنہ بعض بخار والے مسلمان بھی کچھ روز کے لیے جہنم میں جائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1584