Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1569

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَخِّيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلٰى جَنْبِهٖ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتّٰى يَمُوتَ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن عبد الله بن شخير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “مثل ابن آدم وإلى جنبه تسع وتسعون منية إن أخطأته المنايا وقع في الهرم حتى يموت” . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن شخیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انسان اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے آس پاس۹۹بلائیں ہیں ۱∞؎اگر ان سب بلاؤں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں پڑےگا حتی کہ مرجائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎منیّہلغت میں مقرر چیزکو کہتےہیں۔اصطلاح میں موت کو منیّہ کہا جاتا ہے کہ اس کا وقت مقرر ہے،پھربلاؤں اور آفتوں کومنیّہکہا جانے لگا کہ یہ اسبابِ موت ہیں۔مثلیا تو ماضی ہے،بمعنیقَدَرَوَ خَلَقَیعنی انسان آفتوں میں گھرا ہوا پیدا ہوا ہے کیونکہ اس کا نفس امّارہ بہت سرکش ہے،یہ آفتوں سے ٹھکانا پُر رہتا ہے،آرام پاکر دعویٰ خدائی تک کربیٹھتاہے یا مثل حصہ رہے،یعنی انسان کی مثل اس کی سی ہے جو ۹۹ آفتوں میں ہرطرف سے گھرا ہو،۹۹سے عدد خاص مراد نہیں بلکہ کثرت بیان فرمانا مقصود ہے۔۲؎یعنی انسان کے لیے اسباب موت بے شمار ہیں،ہر گھڑی موت سر پر کھڑی ہے لیکن اگر بحکم پروردگار ان سب سے بچ گیا تو آخر بڑھاپا تو آئے گا ہی جس کے بعدموت یقینی ہے،لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر میں تو آفتیں تھیں مگر انسان اپنے کمال سے بچتا رہتا ہے کیونکہ تدبیر سے تقدیر نہیں بدلتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1569