Main Icon

با ب :بیمار پرسی اور بیماری کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1561

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى القَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ : الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدٌ ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن جابر بن عتيك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله : المطعون شهيد والغريق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحريق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمرأة تموت بجمع شهيد ". رواه مالك وأبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کی راہ میں مارے جانے کے سوا سات شہادتیں اوربھی ہیں ۱∞؎طاعون والا شہید ہے،ڈوبا ہوا شہید ہے،ذات الجنب کی بیماری والا شہید ہے،پیٹ کی بیماری والا شہید ہے ۲؎آگ والا شہید ہے،دب کر مرنے والا شہید ہے، عورت ولادت میں مرجائےتوشہیدہے۳؎(مالک،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎جن میں شہادت فی سبیل الله کا ثواب ملتا ہے جنہیں شہادت حکمی کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا حشرشہداء کے ساتھ ہوگا مگر ان شہادتوں پر کچھ شرعی احکام جاری نہیں ہوتے۔۲؎یعنی جو طاعون میں صابر ہوکر مرے اور پیٹ کے درد یا دست یا استسقاءوغیرہ بیماری سے مرے یا ذات الجنب کی بیماری سے مرے جس میں پسلیوں پر پھنسیاں نمودار ہوتی ہیں،پسلیوں میں درد اوربخار ہوتا ہے،اکثر کھانسی بھی اٹھتی ہے یہ سب لوگ حکمًا شہید ہیں،یہ رب کی رحمت ہے کہ ان لوگوں کو درجۂ شہادت عطا فرماتا ہے۔۳؎اس طرح کہ حاملہ فوت ہوجائے یا ولادت کی حالت میں میلا نہ نکلنے کی وجہ سے مرے یا ولادت کے بعد چالیس دن کے اندر فوت ہو بہرحال وہ حکمًا شہید ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے مرادکنواری عورت ہے جو بغیر شادی فوت ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1561